The news is by your side.
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

سفروسیلہ ظفر ازقلم: شہربانو بنت ظہور احمد

اندرونی تازگی کو قدغن سے بچانا تب ہی ممکن ہے جب بیرونی اثرات مثبت ہوں گے کیونکہ دل مضطرب کی رونق باہر کے موسم سے ہی ممکن ہے۔ اسے بارونق،دلکش،پر لطف اور آسودہ کرنے کے لیے “مثبت تبدیلی”بہت اہم ہے۔۔کیونکہ کسی بھی چیز کا جمود اصل میں اس کی فنا ہے، موت ہے۔۔
جب بھی کسی انسان کو احساس ہونے لگے کہ اس کے معاملاتِ زندگی عجیب ڈگر پر چل پڑے ہیں،روح الگ بے سکونی کا شکار ہے،طرح طرح کے وسوسے دل و دماغ پہ حاوی ہو رہے ہیں تو اسے حالات کو نئے رخ پہ لے کر چلنا ہو گا۔۔
اسے اپنے ذہن کے دریچے وا کرنے کے واسطے ماحول تبدیل کرنا ہوگا اور اس تبدیلی کا اعلی طریقہ “سفر” ہے۔۔وہ مقولہ تو سنا ہی ہوگا “سفر ،وسیلہ ظفر”۔۔بس!! اسی مقولے کو لازم کرنے کی دیر ہے۔
” مصروف سفر ہونا بذات خود بہت بڑی عطا ہے کیونکہ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی فرمایا:
قل سیروا فی الارض فانظروا کیف بدا الخلق، ( سورۃ العنکبوت)
“کہہ دیجئے زمین میں گھومو پھرو ،پھر دیکھو کہ کس طرح اس نے مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا فرمایا”۔
یعنی خالق حقیقی بھی چاہتا ہے کہ انسان اپنی روح کی تشنگی مٹائے،اس کے اندر پنہاں سوالات کا جواب مل سکے۔وہ چاہتا ہے اسے جانا جائے، اپنی تخلیق کا مقصد تلاش کیا جائے تو اسے باہر نکلنے کا حکم فرما دیا۔۔اور ساتھ خود ہی وسائل بھی فراہم کر دیئے۔
جہاں سفر کا مقصد جسمانی صحت و توانائی اور روحانی تازگی حاصل کرنا ہے وہیں پہ یہ عمل کامیابی کی ضمانت بھی ہے۔
“سیاحت چونکہ بذاتِ خود اعلی تعلیم ہے اور اس علم کا مثبت اثر تب ہی ممکن ہے جب انسان کے مشاہدات و تجربات بلکہ تاثرات میں بھی اضافہ ہو۔اس سے انقلاب کا لامتناہی سلسلہ شروع ہونا بھی کچھ عجب نہیں۔
“یہ علم ایسے بحر بے کراں کی مانند ہے جو مسلسل بہتے رہنے کے باوجود کم نہیں ہوتا اور کامیاب ترین سفر ہوتا ہی وہ ہے جو ایک خاص مقصد عطا کرے،منفرد سوچ اور نئے خیال کی طرف راغب کرے۔گویا یہ “وسیلہ ظفر” ان کے لیے ہوتا ہے جو سفر،ہجرت سے خود بھی کچھ نہ کچھ سیکھ کر آئیں بلکہ اس کا فائدہ دوسروں تک بھی پہنچائیں۔۔
یہ بات کرتے ہوئے فوراً ہی “سرسید احمد خاں” کا خیال آتا ہے کہ جب انھوں نے انگلستان کا دورہ کیا تو وہ محض دورہ نہ تھا بلکہ اس کے اندر بہت بڑا مقصد پوشیدہ تھا جو وہ اپنے ساتھ واپس اپنے ملک لے کر آئے۔مسلمانوں کی تعلیمی ،معاشی،سماجی اور معاشرتی ترقی ہی ان کا مقصد حیات بن کر رہ گیا۔انھوں نے مسلمانوں کو ذہنی غلامی سے نجات دلانے کی کوشش شروع کی اور اس میں کامیاب بھی ہوئے اور یہ صرف ان کے مصمم ارادے،قوت فیصلہ اور مخلص نیت کی بدولت ہی ممکن ہوا۔
ایک دفعہ پھر جھماکے اور استحقاق کے ساتھ ایک عظیم شخص ذہن میں آتا ہے اور وہ “علامہ اقبال “ہیں۔وہ بھی بغرض تعلیم انگلستان گئے تھے لیکن لوٹے تو ان کے ساتھ خاص مقصد اور سوچ تھی۔۔وہ بھی بطور مسافر ہی مسلمانوں کو مغرب کی جھوٹی چمک دمک کا احساس دلانا چاہتے تھے۔پھر انھوں نے مسلمانوں کو “مردمومن” کہہ کر مخاطب کیا اور عہد رفتہ کی یاد دلائی جس سے ان کی قوم کو نیا احساس ،نئی قوت ملی۔۔علیحدہ ملک،الگ قوم کی پہچان حاصل ہوئی اور یہ فوائد علامہ اقبال کے منفعت بخش سفر کی بدولت حاصل ہوئے۔
بس! کچھ بھی کرنے سے قبل خاص وجہ ،مقصد اور اچھوتا طریقہ اپنانا ہوگا جو زود بخش ہو۔
سفر،وسیلہ ظفر کے متعلق تو “خواجہ حیدر علی آتش” بھی کہہ اٹھے ہیں:
تھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل نہ ٹھہر آتش
گل مراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے
تو آئیے! بجائے مایوسی کا شکار ہونے،ناامیدی کو اپنانے اور جامد ہونے کے نئے سفر کا ارادہ باندھیں۔۔پہلا قدم اٹھانے کی دیر ہے باقی اللہ تعالیٰ بھی ناممکن کو ممکن کرنے میں تاخیر نہیں فرمائے گا۔
ھذا من فضل ربی

+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.