The news is by your side.
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

معیار کامیابی…از قلم: عاقب سعید

        دنیا میں آج تک کامیابی کا کوئی خاص معیار نہیں بن سکا۔ہر دور میں ہر شحض کے لیے کامیابی کا معیار محتلف رہا ہے۔لیکن ایک بات ضرور رہی، ہر شحض اپنی موجودہ جگہ سے کچھ قدم آگے ہی بڑھنا چاہتا رہا ہے۔ پیسے والا طاقت کے پیچھے رہا ہے۔غریب پیسے کے لیے بھاگ دوڑ کرتا رہا ہے۔ کسی کو تمنا ناموری نے بے سکون کر رکھا ہے۔ تو کوئی کسی اور خواب کے لیے مگن ہے۔ غرض ہر انسان مصروف عمل ہے۔ کامیابی کے لیے بھاگ دوڑ کی جا رہی ہے۔ اگر ایک عام انسان کی زندگی کے لحاظ سے کامیابی کی بات کی جائے، ایسی کامیابی جو دنیاوی لحاظ سے ہر انسان کے لیے مکمل ہو، تو وہ یہ ہے کہ انسان پیسے کی فکر سے آزاد ہو، اس کے پاس اتنا پیسہ ہو کہ وہ بنیادی ضروریات باآسانی پوری کر سکے۔اس کی صحت اچھی ہو کہ وہ دنیا کی نعمتوں سے محظوظ ہو سکے۔ اس کے اردگرد بے لوث پیار کرنے والے کچھ لوگ موجود ہوں۔ انسان کے پاس اپنے لیے وقت ہو۔وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہو۔یہ کامیاب زندگی کا وہ معیار ہےجو ہر دور کے انسان کے لیے پورا اترتا ہے باقی انسان کی خواہشیں ہیں جو انسان کو بے سکون رکھتی ہیں۔ مزید کی تڑپ، شہرت، شہوت۔بس اسی وجہ سے ہر انسان کے لیے کامیابی کا معیار محتلف ہےاور اسی لیے آج کا انسان بنیادی ضروریات پوری ہونے کے بعد بھی بے سکون،بے چین، بے قرار رہتا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں، کہ انسان اپنی خواہشات ختم کر دے، زندگی میں کچھ نہ کرے، جیسی زندگی ہے اسے ویسے قبول کر لے، وقت گزاری کرے اور دنیا سے چلا جائے، خود کو کنفرٹ زون کا عادی بنا لے، ایسے انسان میں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ کیوںکہ جانور بھی بنیادی ضروریات پوری کرتے ہیں اور کنفرٹ زون میں رہنا پسند کرتے ہیں۔اگر انسان کنفرٹ زون میں ہی رہتا، تو اکیسوی صدی کے انسان کے پاس یہ سب کچھ نہیں ہوتا، جو اسے آج میسر ہے۔
             کامیابی کا تعلق باہر کی دنیا سے نہیں،بلکہ اندر کی دنیا سے ہے۔ بعص لوگ برے سے برے حالات میں بھی ایسی تاریخ ساز کامیابی حاصل کر لیتے ہیں کہ زمانہ انہیں صدیوں یاد رکھتا ہے اور بعض لوگ سازگار حالات میں بھی ناکام ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کی خواہش انہیں بادشاہ سے فقیر بنا دیتی ہیں اور بعض فقیری سے بادشاہی کا سفر طے کر لیتے ہیں۔باہر کی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے سب پہلے اپنے اندر کی دنیا کا سفر طہ کرنا ضروری ہے اس کے بغیر کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔ کچھ لوگ باہر کی دنیا میں کامیابی تلاش کرتے ہیں وہ پیسے، شہرت یا کسی عہدے کو کامیابی سمجھتے ہیں ۔لیکن وہ یہ حاصل کرنے کے بعد بھی خوش نہیں رہتے ان کا دل اندر سے پرسکون نہیں ہوتا،بعص لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کی وجہ سے زندگی میں کچھ بڑا نہیں کر پاتے، بعص لوگ اپنی موجودہ جگہ رہنے کے عادی ہو جاتے ہیں وہ اتنے سست ہوتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کا گلہ تو ضرور کرتے ہیں لیکن زندگی بدلنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔ وہ اپنی ہی خواہشوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں وہ بجائے آزادی کے،قید ہو جاتے ہیں وہ اپنی خواہشوں کو خواب کو روپ نہیں دیتے، وہ اپنی خواہشوں کو کسی مقصد کے ساتھ نہیں جوڑتے، وہ اپنی زندگی میں کوئی سمت تعین نہیں کرتے، جس کی وجہ سے وہ زندگی بھر یوں ہی خواہشوں کے گرداب میں گھومتے رہتے ہیں ان کی خواہشیں حسرتوں میں بدل جاتی ہیں یا وہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں ہوتے، پھر یوں ہی ان کی زندگی گزر جاتی ہے۔کامیابی کے لیے ضروری ہے انسان اپنے خیالات و خواہشات کو ایک سمت دے،انسان بے مول خواہشوں کو ترک کر دے، ان خواہش کی وجہ تلاش کرے، ایسا کیا ہے جو وہ دل سے کرنا چاہتا ہے ایسا کیا ہے جو اس کے اندر کی دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ایسا کیا ہے جو اسے کنفرٹ زوں سے باہر نکلنے پر مجبور کرتا ہے ایسا کیا ہے جو اسے آوٹ آف بکس سوچنے کی اہلیت دیتا ہے۔ ایسا کیا ہے جو اسے لوگوں کی تعریف و تنقید سے آزاد کرتا ہے ایسا کیا ہے جو اسے دلی خوشی مہایا کرتا ہے۔ایسی کوں سی صلاحیت ہے جو قدرت نے اس کے اندر رکھی ہے ایسا کوں سا کام ہے جو اسے زماں و مکاں کی قید سے آزاد کر دیتا ہے۔ایسا کوں سا مقصد ہے جس کے تحت  اسے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ 
          کامیاب زندگی کا راز صرف ایک شے میں پوشیدہ ہے اور وہی ایک شے ہر انسان کو تلاش کرنی ہوتی ہے، دنیا میں آج تک جتنے بھی لوگوں نے کوئی نمایاں کامیابی حاصل کی ہے وہ کسی ایک شے کے انتحاب کے بعد ہی ان کا مقدر بنی ہے لیکن بعص لوگ اس ایک شے کے بعد بھی بے صبرے ہو جاتے ہیں وہ راتوں رات ہی کامیاب ہونا چاہتے ہیں جب کے کامیابی بتدریج قدم با قدم وقت کے ساتھ ملتی ہے اس میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔کم وقت میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے انسان بے مقصد کاموں سے توجہ ہٹا کر بس بامقصد کاموں پر توجہ دیں، اپنی زندگی کی ترجیحات کا تعین کرے۔ بڑی کامیابی کا بڑے مقصد کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے محض کامیابی کا خواب دیکھ لینے سے کامیابی نہیں ملتی، بلکہ اس کو کسی مقصد کے ساتھ جوڑنا بھی بڑا ضروری ہے اور پھر اس مقصد کے لیے دن رات کوشش کرنی پڑتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے ہوتے ہیں ہر روز اپنے مقصد کی جانب ایک قدم بڑھانا پڑتا ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک بچہ بڑے غیر مسوس انداز میں بڑا ہوتا ہے اور وہ دن با دن بڑا ہوتا رہتا ہے لیکن روز تبدیلی محسوس نہیں ہوتی۔ایسے ہی کامیابی بھی مسلسل محنت کوشش،مستقل مزاجی حوصلے اور جذبے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔
        کامیابی کے لیے کسی ایسے فرد کا ہونا بھی بڑا ضروری ہے جو صحیح راہ کا انتحاب کرے۔ جو انسان کو ترغیب سفر دے۔یا جو انسان کو کامیاب زندگی کی طرف پہلا قدم اٹھانے میں مدد دے۔بعص لوگ اپنی زندگی کے ہیرو خود بننا چاہتے ہیں وہ جوش و جذبے سے بھرپور ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں وہ بغیر کسی انسان کے کامیاب ہو جائیں گے، وہ سمجھتے ہیں کہ شاہد کامیابی بس خواب دیکھ لینے سے مل جاتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کامیابی کے لیے صرف سحت محنت کافی ہے۔ جب کہ تاریخ میں جتنے بھی نامور لوگ گزرے ہیں ان کی کامیابی میں کسی نا کسی شخص کا کردار بڑا اہم رہا ہے۔ مولانا رومی کو رومی بنانے والے شمس تبریز تھے۔ علامہ محمد اقبال کی زندگی میں ان کے استاد میر حسن کا بڑا اہم کردار ہے۔ نامور و معروف قابل احترام اسپیکر قاسم علی شاہ صاحب کی مقبولیت میں ان کا ایک طالب علم عابد علی شامل ہے جو آغاز میں ان کی ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کرتا رہا اور دھیرے دھیرے ان کا پیغام ملک کے ہر شحض تک پہنچ گیا۔ گو کہ کوئی بھی شحض بغیر صلاحیت کے محص دوسروں کے بل بوتے پر کامیاب نہیں ہوتا، لیکن یہ بھی سچ ہے کوئی بھی شحض محص اپنی قابلیت کی وجہ سے عظمتوں کی بلندیوں کو نہیں چھوسکتا۔ ہر ہیرو کی کہانی میں کسی نا کسی سپورٹیو کردار کی ضرورت رہتی ہے۔انسان کی زندگی میں وہ کردار اس کے ماں باپ، بہن بھائی دوست، استاد کسی کا بھی ہو سکتا ہے۔
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.