The news is by your side.
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

جھوٹ اپریل فول اسلام میں کسی مسلمان کے لئے لعنت کا لفظ سوائے جھوٹ کے استعمال نہیں کیا گیا (تحریر:ارسلان خالد سندھوکالمسٹ سکھیکی منڈی)

ٰٰخیانت ایمان کی ضد اور سب سے بڑی معاشرتی برائی
جھوٹ اپریل فول اسلام میں کسی مسلمان کے لئے لعنت کا لفظ سوائے جھوٹ کے استعمال نہیں کیا گیا
بندہ ایمان خالص تک نہیں پہنچتا جب تک کہ وہ مذاق میںبھی اور جھگڑے کو نہ چھوڑدے اگر سچا ہو (فرمان نبی کریم ﷺ )


اپریل لاطینی زبان کے لفظ اپریلس سے ماخوذہے جس کا مطلب پھولوں کاکھلنا،کونپلیںپھوٹنا،قدیم رومی قوم موسم بہار کی آمد پر شراب کے دیوتا کی پرستش کرتی اور اسے خوش کرنے کے لئے لوگ شراب پی کر اوٹ پٹانگ حرکتیںکرنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں،یہ جھوٹ رفتہ رفتہ اپریل فول کا ایک اہم حصہ بن گیا۔انٹر نیشنل کے مطابق مغربی ممالک میں یکم اپریل کو عملی مذاق کا دن قرار دیا جاتا ہے ۔اس دن ہر طرح کی نازیبا حرکات کی چھوٹ سمجھی جاتی ہے اور جھوٹ مذاق کا سہارا لے کر لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔افسوس صد افسوس یہ فضول اور فول رسم مسلم معاشرے کا ایک اور لازم حصہ بن چکی ہے اور مسلمان اپنے ہی مسلمان بہن بھائیوں کی تباہی و بربادی پر خوشی کا دن مناتے ہیں ۔اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو مصیبت وپریشا نی میں ڈالتے ہیں۔اپریل فول کچھ اچھی رسم نہیں جس نے ایجاد کی ستم ہی ڈھایا ۔مغربی ملکوں میں پھر بھی حدود کا خیال رکھتے ہیںلیکن ہمارے ہاں تو ہر شے ہی حد سے نکل جاتی ہے۔ ایسے ایسے بے رحم مذاق کئے جاتے ہیں کہ بس اوپر والے ہی کی پناہ۔اپریل فول میں سب سے بڑا گناہ جھوٹ ہے جبکہ جھوٹ بولنا دنیا و آخرت میں سخت نقصان اور محرومی کا سبب ہے ،نبی اکرم ﷺ نے یہوو و نصاریٰ اور کفار و مشرکین کی مشابہت اور بوووباش اختیار کر نے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے ۔نیز جھوٹ اللہ رب العالمین اور نبی کریم ﷺ کی ناراضگی کا باعث ہے انسان کے اخلاق میں سب سے بڑی اور مذموم عادت جھوٹ بولنا ہے ۔لیکن افسو س ہے کہ جھوٹ جتنا مذموم عمل ہے اتنا ہی آج کل عام بھی ہے ۔ہماری معاشرتی برائیوں میں جھوٹ ایک ایسی برائی ہے جو ہر جگہ نظر آتی ہے ۔گھر ہو یا بازار دفتر ہو یا دوکان سیاست ہو یا صحافت کوئی گوشہ زندگی نظرنہیں آتا جہاں جھوٹ ڈیرے ڈالے نظر نہ آتا ہو۔آج ہماری زندگی کی کامیابی کا راز جھوٹ میں پوشیدہ سمجھا جاتا ہے اور یہ بات بھی عام سننے میں آتی ہے کہ اس دور میں دیانتدار اور سچے انسا ن کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔یہ سب باتیں محض اس لئے سننے میں آتی ہیں کہ ہم نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے اگر ہم نے اسلام کی تعلیمات کو اپنایا ہو تا تو آج ہمارے معاشرہ میں جھوٹوں کے لئے کوئی جگہ میسر نہ ہوتی ۔لفظ لعنت کا مستحق شیطان کو ٹھہرایا گیا۔اس کے بعد یہودیوں ،کافروں اور منافقوں کو لعنت کی وعید سنائی ہے لیکن کسی مسلمان کے لئے لعنت کا لفظ سوائے جھوٹ کے استعمال نہیں کیا گیا ۔اس سے بخو بی اندازہ ہوتا ہے کہ جھوٹ بولنا کتنا بڑا گناہ ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے جھوٹ کو منافقوں کی نشانی فرمایا ہے۔بلکہ قرآن پاک نے یہاں تک فرمایا ہے ”جھوٹی باتیں وہی بناتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے“رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہ ہر خصلت مسلمان میں ہو سکتی ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے ۔تو گویا جھوٹ اور خیانت ایمان کا ضد ہیں۔جہاں ایمان ہو گا وہاں جھوٹ اور خیانت کا ہونا نا ممکن ہے ۔لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آج کل مسلمان کہلانے والے ہی جھوٹ اور خیانت کے عادی ہو گئے ہیں ،معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ بولنے والوں اور خیانت کرنے والوں کا دعویٰ اسلام محض زبانی ہے۔رسول اللہ گناﷺ نے فرمایا ؛جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گنا ہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ دوزخ میں وہ آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جنت میں لے جانے والا کام کیا ہے ؟ فرمایا سچ بولنا جب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کا کام کرتا ہے و ہ ایمان سے بھر پور ہوتا ہے اور جو ایمان سے بھر پور ہوتا ہے و ہ جنت میں داخل ہوتا ہے۔اس شخص نے پھر عرض کیا ،یا رسول اللہ ﷺ دوزخ میں لے جانے والا عمل کیا ہے؟فرمایا گیا جھوٹ بولنا، جب بندہ جھوٹ بولے گا تو گناہ کے کام کر یں گا اور جب گناہ کے کام کریں گا تو کفر کریں گا اور جو کفر کریں گا وہ دوزخ میں جائے گا۔اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جھوٹ حد سے بڑھ جائے تو وہ کفر بن سکتا ہے۔کذاب بڑا جھوٹا ہے یہ اتنا جھوٹ بولتا ہے کہ ساری دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے اس کو قیامت تک ایسا ہی عذاب ملتا رہے گا ۔ اسی طرح محض سنی سنائی باتیں بلا تحقیق دوسروں کو بتاتے پھرنے کی بھی ممانعت کی گئی ہے اس سے انسان کا سوسائٹی میں اعتبار نہیں رہتا ۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ یہ جھوٹ بس کافی ہے کہ جو سنے وہ کہتا پھرے ۔ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول اللہ ﷺکی تعلیمات کو ہر وقت پیش نظر رکھنا چاہیے اگر ہم ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوجائیں گے تو جھوٹ بولنا چھوڑ دیں گے اس سے ہمارے معاشرہ کی بہت سی برائیں خود بخود ختم ہو جائیں گی ۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا۔”بندہ ایمان خالص تک نہیں پہنچتا جب تک وہ مذاق جھوٹ اور جھگڑے کو نہ چھوڑ دے اگر چہ جھگڑا کرنے میں وہ برحق ہو ،امام احمد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا بندہ پور ا مومن نہیں ہوتا جب تک کہ مذاق میں بھی جھوٹ نہ چھوڑ دے اور جھگڑا کرنا نہ چھوڑ دے اگرچہ سچا ہو۔حضرت ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناجھوٹ جھوٹے شخص کے چہرہ کو دنیا و آخرت میں سیاہ کرتا ہے اور چغل خوری قبر کا عذاب ہے یعنی عذاب کا باعث ہے ۔رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بڑی خیانت کی یہ بات ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کہے اور وہ تجھے اس بات سے سچا جان رہا ہو اور تو اس سے جھوٹ بول رہا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر دھو کے باز کی کمر کے اوپر ایک جھنڈا لگا ہوا ہوگا کہ یہ وہ انسان ہے جس نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا تھا ۔ مذاق میں جھوٹ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کے لئے جو اس غرض سے جھوٹ بولے کہ اسکی بات سے لوگ ہنسیں ہلاکت ہے اس کے لئے ہلاکت ، جھوٹ کی جہاں بہت ساری شکلیں ہیں وہاں ایک شکل اپریل فول کی بھی ہے اپر یل فول کے دن لوگوں کو دھوکا دیا جاتا ہے اور جھوٹی خبریں گردش کرتی نظر آتی ہیں ۔ زبان اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے اور اسکا شکریہ ہے کہ انسان اس کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق استعمال کرے اپنی زبان کو سچ کا عادی بنائے اور جھوٹ سے بچائے سچ کی عادت آپنائیں۔۔۔
تحریر:ارسلان خالد سندھو کالم نگار سکھیکی منڈی

+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.